8 فروری 2026 - 08:58
اسلام کو مٹانے والے خود مٹ گئے :مولانا ارشد مدنی

جمہوریت کی جگہ ہندو راشٹر کے مطالبے پر جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے سخت بیان دیا ہے۔ انہوں نے نیپال کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی ایک مذہب کو قوم پر مسلط کرنے سے ترقی ممکن نہیں ہوتی۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، جمہوریت کی جگہ ہندو راشٹر کے مطالبے پر جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے سخت بیان دیا ہے۔ انہوں نے نیپال کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی ایک مذہب کو قوم پر مسلط کرنے سے ترقی ممکن نہیں ہوتی۔

جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے ایک بار پھر ہندو راشٹر کا مطالبہ کرنے والے عناصر کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہوئے  سخت بیان دیا ہے۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ کچھ فرقہ وارانہ طاقتیں ہندو راشٹر بنانے کا خواب دیکھ رہی ہیں، لیکن انہیں پڑوسی ملک نیپال کی تاریخ سے سبق لینا چاہیے۔ ان کے مطابق نیپال نے بھی کبھی ہندو راشٹر کا تصور اپنایا تھا، مگر اس کے نتائج آج سب کے سامنے ہیں۔

جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے لکھا کہ “نفرت کے سوداگر اور ہندو راشٹر کا خواب دیکھنے والوں کو نیپال سے سبق لینا چاہیے۔ وہ دن بھی ضرور آئے گا جب ظالموں کے گلے میں زنجیریں ہوں گی اور ملک ایک بار پھر محبت، بھائی چارے اور انصاف کے سائے میں ترقی کرے گا۔” انہوں نے مزید کہا کہ “فرقہ وارانہ طاقتیں اور کچھ تنظیمیں ہندو راشٹر بنانے کا خواب دیکھ رہی ہیں، حالانکہ انہیں اپنے پڑوسی ملک نیپال کی تاریخ سے سبق لینا چاہیے۔ حالیہ برسوں میں نیپال میں بھی اسی طرح کی فکر رکھنے والوں نے ہندو راشٹر قائم کیا تھا، لیکن بالآخر وہ نظام اوندھے منھ گر گیا اور وہاں جمہوری آئین کے تحت ایک نئی طرزِ حکومت وجود میں آئی۔ اس حقیقت سے واضح ہوتا ہے کہ موجودہ عالمی حالات میں کسی بھی ملک کی حقیقی ترقی، استحکام اور عوامی فلاح اسی وقت ممکن ہے جب وہاں جمہوری نظام اور آئینی اقدار کا تحفظ ہو، نہ کہ کسی ایک مذہب یا نظریے کو قوم پر مسلط کر کے۔”

مولانا ارشد مدنی نے اپنے بیان میں کہا کہ فرقہ وارانہ عناصر کی جانب سے ملک کو ہندو راشٹر بنانے کی کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ سیکولرازم اور بھارتی آئین کے تحفظ کے لیے جمعیت علمائے ہند آخری سانس تک جدوجہد جاری رکھے گی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جو قوم اپنی شناخت، ثقافت اور مذہب کے ساتھ جینا چاہتی ہے، اسے قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ فرقہ وارانہ طاقتیں اسلام اور مسلمانوں دونوں کو مٹانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، لیکن شاید انہیں یہ معلوم نہیں کہ اسلام کا یہ چراغ کبھی بجھ نہیں سکتا۔ جنہوں نے اسے بجھانے کی کوشش کی، وہ خود مٹ گئے۔ ہم ایک زندہ قوم ہیں اور زندہ قومیں مایوسی کے بجائے اپنی بصیرت، دوراندیشی اور حکمتِ عملی کے ذریعے کامیابی کی نئی داستان رقم کرتی ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha